ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / والد او روالدہ کو کھودینے کے باوجود شاہین پی یو کالج بیدرکی طالبہ ریکھا نے پاس کیا NEET

والد او روالدہ کو کھودینے کے باوجود شاہین پی یو کالج بیدرکی طالبہ ریکھا نے پاس کیا NEET

Thu, 04 Nov 2021 19:08:10    S.O. News Service

    بیدر۔4/نومبر (ایس او نیوز)بھلے ہی میڈیکل  میں  داخلے کے امتحانات کو سب سے مشکل سمجھا جاتا ہو، لیکن کرناٹک کی ریکھا اڈور  نیٹ کی تیاری کے دوران اپنے والد اور اپنی والدہ کو کھودینے کے باوجود  اس سال NEET میں 720 میں سے 591  مارکس  حاصل کرتے ہوئے کامیابی حاصل کرلی ہے۔

ادارہ شاہین کی طرف سے جاری کردہ پریس ریلیز  کے مطابق   بیس سالہ اڈور جس نے امتحان سے صرف ایک ماہ قبل اپنے والدین کو کھو دیا تھا، نے 22,883 کا آل انڈیا رینک (AIR) درج کیا ہے ۔

ریکھا نے اپنے پی یو سی سال دوم امتحانات میں 94.75 فیصد اوسط مارکس کے ساتھ امتیازی کامیابی درج کیی تھی ۔کرناٹک کے کوپل ضلع سے تعلق رکھنے والی ریکھا اڈور ایک ماہر امراض قلب بننے کی خواہش رکھتی ہیں۔ جب NEET کے امتحانات لکھنے میں صرف ایک مہینہ باقی  تھا ، تو اس کے والد والد  دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کرگئے  تھے جبکہ  چند مہینے پہلے ہی  اڈور نے اپنی ماں کو بھی کھو دیا۔بیدر میں شاہین گروپ آف انسٹی ٹیوشنز سے NEET کے نصاب کے ساتھ اپنے پی یو سی سالِ اول  اوردوم مکمل   کرتے ہوئے اڈور نے میڈیکل کے داخلے کے امتحانات کے لیے دوسری کوشش کی جس میں وہ کامیاب ہوگئی۔

پریس ریلیز کے مطابق  ریکھا کا ماننا تھا کہ '' میں شاہین کالج بیدرمیں پڑھتی ہوں، تب ہی میں اس امتحان میں کامیاب ہو سکوں گی۔ ریکھا اڈور نے کہا کہ اپنے والدین  کو کھونے کے بعد بھی ''اگر میں اب بھی کوشش کر سکتی   ہوں اور یہ امتحان پاس کر سکتی ہوں، تو یہ  شاہین گروپ آف انسٹی ٹیوشنز کی وجہ سے ہی ہوا ہے، جو مجھ پر یقین رکھتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ شاہین گروپ نے  میری رہنمائی کی اور زندگی کے ایک مشکل وقت میں میرا ساتھ دیا۔'' مزید کہا، ''میں نے تقریباً تین سال پہلے کوچنگ شروع کی تھی جب میں شاہین کالج سے  پی یو سی سالِ اول میں تھی۔'' کوپل کے کشتگی قصبے کی رہنے والی اڈور شاہین کالج میں پڑھنے کے لیے  شہر بیدر آئی۔ ''پہلی کوشش میں امتحان میں کامیاب نہیں ہو سکی، اس لیے  اُس  نے امتحان میں کریک کرنے کے لیے اسی ادارے میں کام جاری رکھا،'' انہوں نے مزید کہا کہ جب بھی وہ ٹوٹ جاتی تھی، اپنے والدین کو یاد کرتی تھی اور سوچتی تھی کہ اب وہ ایسا نہیں کر سکتی، ''میرے پرنسپل سمیت عملے کے تقریباً 15-20 ارکان میرے مشکل وقت میں مجھے تسلی دیا اور حوصلہ افزائی کی''۔  وہ اپنی  زندگی کے مقصد کے بارے میں  بتاتی ہے کہ  وہ زندگی میں غریب لوگوں کی خدمت کرنا چاہتی ہیں۔


Share: